وفاقی وزیر اورمسلم لیگ ن کے مرکزی راہنماء جاوید لطیف نے کہا ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق انتخابات ہونا ممکن نہیں

Breaking News

6/recent/ticker-posts

وفاقی وزیر اورمسلم لیگ ن کے مرکزی راہنماء جاوید لطیف نے کہا ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق انتخابات ہونا ممکن نہیں

اسلام آباد (نظام عدل نیوز )وفاقی وزیر اورمسلم لیگ ن کے مرکزی راہنماء جاوید لطیف نے کہا ہے کہ نئی مردم شماری کے مطابق انتخابات ہونا ممکن نہیں،مسائل سے نکلنے کیلئے جلد نئے انتخابات انتہائی ضروری ہیں،انتخابات ملتوی ہونے کی بات وزیراعظم کے بیان سے جوڑی جا رہی ہے، ن لیگ کی نہیں بلکہ اتحادیوں کی حکومت ہے، مسلم لیگ ن انتخابات ملتوی نہیں کرانا چاہتی، 15 ماہ میں جمہوریت کمزور ہوئی اگر کمان 15 ماہ قبل والے افراد کے پاس ہوتی تو جمہوریت مزید کمزور ہوتی، ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف عالمی سازش ہوئی، بے نظیر کا قتل عالمی سازش اور اس میں مقامی ملوث تھے جبکہ نواز شریف کی حکومت ایٹمی طاقت بننے کی وجہ سے نشانہ بنی ،ملک میں اس وقت امید صرف نواز شریف ہیں، نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بننے جا رہے ہیں، وہ آتے ہی 2 سال میں سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گےدہشتگردی کے باوجود ہم 2013 میں بہتری لائے، شبر زیدی نے کہا  ہےکہ گزشتہ حکومت ملک کو تباہ کر کے گئی،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی گفتگو سے تاثر لیا گیا جیسے الیکشن وقت پر نہیں ہوں گے،وزیراعظم نے نئی مردم شماری پر الیکشن کی بات کہی تھی حقائق یہی ہیںکہ نئی مردم شماری کے مطابق انتخابات ممکن نہیں ہیںاسی لیے آئندہ انتخابات پرانی مردم شماری پر ہی ہوں گے،ن لیگ انتخابات میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں چاہتی، مسائل سے نکلنے کیلئے بروقت انتخابات ضروری ہیں، انتخابات جتنے زیادہ تاخیر کا شکار ہونگے اسکا نقصان ملک کو ہوگا،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پندرہ ماہ میں جمہوریت کمزور ہوئی پندرہ ماہ پہلے جو لوگ کمان میں تھے، انکا منصوبہ اس کمزور جمہوریت کو ختم کرنا تھا،آج شبر زیدی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد جو پارٹی حکومت بنائے گی وہ بدقسمت ہوگی شبر زیدی کی یہ بات ٹھیک ہے،ہم  اپنی یاست قربان کرکےریاست بچا رہے ہیں،لوگوں کی آنکھوں میں نے والے انتخابات میںصرف ایک امید نواز شریف ہے،نواز شریف چوتھی دفعہ وزیراعظم بننے جا رہے ہیں، وزیراعظم دو دفعہ کہہ چکے ہیں کہ ادارے کے چیف کے خلاف بغاوت کی سازش ہوئی،دفاعی ادارے کے خلاف بغاوت کی جو سازش ہوئی اسکے پیچھے چھپے عناصر سامنے آنے چاہیں، ایک ثابت شدہ مجرم کے اوپر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جارہااسکو ججز گیٹ سے نکالا جاتا ہے،اس شخص نے عدالتوں میں درخواستیں دینے کا ریکارڈ قائم کیا ہے،کیا سانحہ نو مئی پر مزید کسی ثبوتوں کی ضرورت ہے، عمراں خان کے دہشتگردوں کے روابط کے ثبوت اداروں کے پاس موجود ہیں،۔اگر کوئی قانون انسانی حقوق سے متصادم آتا ہے تو اسے ن لیگ کا بل کہا جاتاہے جبکہ اگر کوئی ریلیف کا کام ہوتا ھے تو اسے اتحادی حکومت کا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے، نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بنتے ہی 2 سال میں سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے،ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف عالمی سازش ہوئی، بے نظیر کا قتل عالمی سازش اور اس میں مقامی ملوث تھے جبکہ نواز شریف کی حکومت ایٹمی طاقت بننے کی وجہ سے نشانہ بنی،اگر انصاف کے دونوں ترازو برابر ہوں تو کوئی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتا، ادارے نے خود احتسابی کی اور حاضر سروس کرداوں پر ہاتھ ڈالا، 2017ء کے کردواں پر بھی ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

Post a Comment

0 Comments