بےاولاد جوڑے کی تلاش ہے جو کہ بچی/ بچے گود لینا چاہتے ہیں

Breaking News

6/recent/ticker-posts

بےاولاد جوڑے کی تلاش ہے جو کہ بچی/ بچے گود لینا چاہتے ہیں

اسلام آباد نظام عدل نیوز 

اسلام آباد سے بے اولاد ,صاحب ثروت جوڑے متوجہ ہوں۔ اسلام آباد انتظامیہ کو ایسے بے اولاد جوڑے کی تلاش ہے جو کہ بچی/ بچے گود لینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں صاحب ثروت،خواہش مند بے اولاد جوڑے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی مقرر کردہ کمیٹی کے سامنے انٹرویو کے لیےمورخہ 14.02.2024کو پیش ہوں گے۔ اس سلسلے میں فارم ڈپٹی کمشنر آفس اسلام آباد کی جنرل برانچ سے مورخہ 13.02.2024 شام پانچ بجےتک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والے فارم نامکمل تصور کیے جائیں گے۔بچوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے گی، بچی/بچےکو گود لینے والے جوڑے کو منتخب کرنے کے لیے مندرجہ ذیل چیزوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے
1. بچے کی جنس کی کسی بھی قسم کی معلومات نہیں دی جائے گی، خبروں پر جو جنس شیئر کی جا رہی ہے وہ جعلی/غلط ہو سکتی ہے، 
2. بچے کی تصویرکودکھایا نہیں جائے گا، 
3. سنگل والدین، بیوہ وغیرہ بچے کو گود نہیں لے سکتے،
4. صرف وہ جوڑے (جن کے طبی وجوہات کی بنا پر بچے نہیں ہیں) بچے کو گود لینے کی اجازت ہے، اس کے لیے میڈیکل سرٹیفکیٹ اور شادی کے بعد مناسب وقت کا گزر جانا درکار ہے، 
5. گود لینے والے بچے کی نگرانی ڈی سی آفس کرتا ہے۔ مجسٹریٹ ماہرین کے ذریعے بچے کی صحت، تندرستی اور نفسیات کا معائنہ کرتے رہیں گے،
6. جو لوگ اپنانا چاہتے ہیں ان کی معاشرے میں اچھی ساکھ ہونی چاہیے جس کی جانچ دستاویزات کے ساتھ انٹرویو میں کی جائے گی، ان کی مالی حیثیت بھی معقول ہونی چاہیے تاکہ وہ بچے کی اچھی زندگی اور تربیت کر سکیں، بہتر مالی حیثیت والے جوڑے دوسروں پر برتری حاصل کریں گے، کریکٹر سرٹیفکیٹ، ریکمنڈیشن لیٹر برائے مہربانی انٹرویو کی تاریخوں پر لائے جائیں، 
 7. غیر پاکستانی اہل نہیں ہیں۔
8. اسلام آباد میں مکان رکھنے والے لوگوں کو ترجیح دی جائے گی۔ ہم نے اسلام آباد میں بغیر گھر کے کسی کو لاوارث بچہ نہیں دیا۔ کوئی بھی اپنے اپنے اضلاع میں لاوارث بچوں کے لیے درخواست دے سکتا ہے کیونکہ اگر وہ ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہیں تو اس کے بعد خاندان کی نگرانی ممکن نہیں ہے۔
9. صرف شادی شدہ جوڑے ہی درخواست دے سکتے ہیں، تنظیمیں وغیرہ درخواست نہیں دے سکتی۔
10. ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں اور گود لینے کے لیے درخواست دینے والے جوڑے کی تشخیص میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے.

Post a Comment

0 Comments