اسلام آباد ہائیکورٹ،بغیر اجازت جج کی گاڑی کیوں استعمال کی؟ جج کے گھر کے ویٹر کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم

Breaking News

6/recent/ticker-posts

اسلام آباد ہائیکورٹ،بغیر اجازت جج کی گاڑی کیوں استعمال کی؟ جج کے گھر کے ویٹر کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ،بغیر اجازت جج کی گاڑی کیوں  استعمال کی؟ جج کے گھر کے ویٹر کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم 
نظام عدل نیوز ظاہر حسین کاظمی /اسلام آباد ہائی کورٹ کی اپنے ہی سرکاری ملازم کیخلاف محکمانہ کارروائی ،ایڈمن جج نے ہائی کورٹ کے سرکاری ملازم کو جبری ریٹائر کرنے کا فیصلہ درست قرار دیا ،ایڈمن جج جسٹس محسن اختر کیانی نے ملازم اسحاق کی محکمانہ اپیل پر فیصلہ کیا ،ملازم نے رجسٹرار کے جبری ریٹائر کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی ،ہائیکورٹ کا سابق ملازم جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے گھر میں بطور ویٹر کام کر رہا تھا ملازم نے تسلیم کیا 25 فروری آدھی رات کو جج کی گاڑی بغیر اجازت استعمال کی، فیصلہ ،ملازم نے گاڑی 110 کلومیٹر تک لے جانے کے پیچھے حساسیت کو محسوس نہیں کی، فیصلہ ،جج کے گھر کے ویٹر کو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بھی بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی، فیصلہ ،ملازم کی اس حرکت سے متوقع خطرناک نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ایڈمن جج ، رجسٹرار نے ملازم کو جبری ریٹائر کرکے پنشن دینے کا فیصلہ دیا، ایڈمن جج،رجسٹرار ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملازم کی اپیل خارج کی جاتی ہے، ایڈمن جج،ریکارڈ کے مطابق ملازم نے پہلے بھی بہت دفعہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کی، ایڈمن جج،ملازم پر ثابت ہوا جج کی گاڑی 110 کلومیٹر استعمال کرکے قوم خزانے کو نقصان پہنچایا، فیصلہ ،ملازم نے آدھی رات کو بغیر اجازت ڈیوٹی کی جگہ چھوڑی، شوکاز نوٹس کا متن ،ملازم نے پولیس اہلکاروں کو غلط بتایا جج کی ہدایت پر گاڑی لیکر جا رہا ہوں، شوکاز نوٹس کا متن،جج صاحبہ کے گھر ڈیوٹی کرتا تھا میں ڈرائیور نہیں ویٹر ہوں، ملازم اسحاق کا موقف،میری بیٹی ایک رات سخت بیماری ہو گی جج صاحبہ کی گاڑی لیکر چلا گیا،ملازم اسحاق جج کی گاڑی لیکر جانا غلطی کو تسلیم کیا مجھے معاف کردیں، ملازم اسحاق ،اپنی بیٹی کی خاطر پریشانی میں یہ غلطی کر بیٹھا مجھے نوکری سے نا نکالیں معاف کردیں، ملازم

Post a Comment

0 Comments