سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس کی سماعت

Breaking News

6/recent/ticker-posts

سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس کی سماعت


راولپنڈی (نظام عدل نیوز )سینئر سول جج قدرت اللہ نیازی نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس کی سماعت 10 جنوری تک ملتوی کردی گزشتہ روز پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمان کے وکیل کو مقدمے کی نقول فراہم کر دی گئیں اس موقع پر سابق چیئرمین اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وکیل عمیر نیازی کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے دریں اثنا تحریک انصاف کے چیئر مین بیرسٹر گوہر خان نے بھی منگل کے روزا ڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے سابق چیئرمین سے ملاقات کی اور آئندہ انتخابات،امیدوارں کی نامزدگی اور پارٹی ٹکٹوں کے اجرا پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاملاقات کے بعد جیل کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سابق چیئرمین سے ملاقات اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ہوئی ٹکٹوں کے معاملہ پر ابتدائی مشاورت ہوئی ہے دو دن کی مشاورت کے بعد پراسس مکمل ہو جائے گا اور ٹکٹ فائنل کرلیں گے انہوں نے کہا کہ الیکشن اہم پراسس ہے شفاف اور غیر جانبدار پراسس میں جماعتوں کی شمولیت ضروری ہے ہمارے زیادہ تر امیدوروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے لیکن8فروری کو ہمارے مخالفین کو شکست اور کامیابی تحریک انصاف کی ہو گی انہوں نے کہا کہ عدلیہ اگر ہمارے پارٹی نشان کوبحال نہیں کرتی توہم کسی بھی کامن نشان پر الیکشن لڑینگے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ الیکشن 8فروری کو ہوں گے عدلیہ سے درخواست ہے کہ آپ ہی کا کردار اہم ہے اگرایک پارٹی کو سنگل آؤٹ کرکے نکالا جائے گا تو جمہوریت کا نقصان ہو گا معیشت ڈوب جائے گی سابق چیئرمین کی مشاورت سے کہا جن لوگوں نے پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کی ان کو ٹکٹوں پر غور نہیں کیا جائے گا کسی صورت الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے ہم انڈر 18اور انڈر 19ٹیم کے ساتھ بھی لڑیں گے انکو کھلا گراؤنڈ نہیں دیں گے سپریم کورٹ میں درخواست دے چکے ہیں درخواست کی ہے کہ لیول پلینگ فیلڈ دی جائے اب یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے اگر کاغذات چھین لئے جائیں لوگوں کو روکا گیا تو مولانا کی پراپرٹی ملک کی پراپرٹی نہیں انکی جماعت کے پی اور بلوچستان تک ہے انکی سیٹیں پنجاب اور سندھ میں نہیں ہوتی  ہمارا کوئی موقف نہیں کہ الیکشن کسی صورت ملتوی ہوں دعا ہے الیکشن خوش اسلوبی سے ہوں پرامن ہوں سسٹم پر اعتماد نہیں بھی ہے تو ہونا ہے کیونکہ ہم نے الیکشن لڑنا ہے ہمارے پاس 70فیصد مقبولیت ہے جو حکومت ہارس ٹریڈنگ کے زمرے میں بن کرآتی ہے وہ کیسے ڈیلیور کر سکتی ہے ہارس ٹریڈنگ سے بنی حکومت کبھی بھی ملک کو استحکام نہیں دے سکتی جہانگیر ترین کا وکیل انگیج کرکے پشاورہائیکورٹ لے گئے الیکشن کمیشن کو کہتے ہیں شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کرانا اپکی ذمہ داری ہے ایسی صورت حال میں الیکشن تو ہو جائیں گے لیکن بعد میں کیا ہو گا ہماری درخواست ہے کہ ہمیں کامن انتخابی نشان دے دیں ہمارے سارے امیدوار آزاد نہیں ہونے چاہیئں نگران سیٹ اپ سے کوئی مطمئن نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

0 Comments