کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا

Breaking News

6/recent/ticker-posts

کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا


کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا 

03جنوری2024
راولپنڈی (نظام عدل نیوز )تحریک انصاف کے سابق چیئر مین نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 89(میانوالیI)سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے اس ضمن میں اپیل ہائی کورٹ راولپنڈی کے الیکشن ٹریبونل میں دائر کر دی گئی ہے بیرسٹر لامیہ نیازی اورملک جواد اصغر ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر اپیل میں این اے89کے ریٹرننگ افسر محمد کفائیت اللہ کے علاوہ پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن جوہر آبادکے ڈپٹی ڈائریکٹراور اعتراض کنندگان خرم حمید خان اور خلیل الرحمان خان ایڈووکیٹ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار سابق وزیر اعظم اور ایک سیاسی جماعت کا سابق چیئرمین ہے اور عوام میں انتہائی مقبولیت کا حامل ہے 1996سے جاری سیاسی جدوجہد کے بعد نہ صرف پارٹی ایک مقبول ترین جماعت بنی بلکہ 2028کے عام انتخابات میں درخواست گزار اس ملک کا 22واں وزیر اعظم بنا وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد ملک کووڈ19سمیت مختلف بحرانوں کا شکار تھا درخواست گزار کی خواہش تھی کہ ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے پاکستان کو درپیش تمام تر بحرانوں کے باوجوددرخواست گزار نے احساس پروگرام اور صحت سہولت کارڈ جیسے فلاحی منصوبے شروع کئے آزاد اور خود مختار کارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی اور پاکستان کو دنیا میں باعزت مقام دلوانے کے لئے اقدامات کئے لیکن درخواست گزار کے خلاف2022میں عدم اعتماد تحریک لائی گئی اس کے باوجود درخواست گزار نے قوم کو موبلائز کیا اور آج بھی درخواست گزار کی مقبولیت دیدنی ہے لیکن درخواست گزار کی حکومت کے خاتمے کے بعد درخواست گزار کے خلاف200کرمنل کیس بنائے گئے پارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنراسلام آباد کی جانب سے درخواست گزار کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس بنایا گیا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے گزشتہ سال5اگست کو توشہ خانہ ریفرنس میں درخواست گزار کو 3سال قید کی سزا سنادی جس کے بعد درخواست گزار اڈیالہ جیل میں ہے توشہ خانہ ریفرنس کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں گزشتہ سال ہی8اگست کو الیکشن کمیشن نے آرٹیکل63کے تحت درخواست گزار کو5سال کے لئے نااہل قرار دے دیاجس پر درخواست گزار نے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف 28اگست کو اپیل دائر کی جسے ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا بعد ازاں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری الیکشن شیڈول کے مطابق درخواست گزار نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے89 (میانوالیI)سے کاغذات نامزدگی داخل کروائے جن پر 3مختلف افارد نے اعتراض لگائے کہ درخواست گزار کے ذمہ جولائی2022سے اکتوبر2023تک سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 36لاکھ88ہزار 680 روپے واجب الادا ہیں اور درخواست گزار عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے ساتھ الیکشن کمیشن سے بھی نااہل ہے اپیل میں آر او کے فیصلے کو غیر آئینی، غیر قانونی اور حقائق کے منافی قرار دیا گیا ہے اپیل میں کہا گیا ہے کہ نمل یونیورسٹی(Namal University) کے بورڈکا چیئرپرسن ہونے کے ناطے یہ واجبات درخواست گزار کے ذمہ نہیں آتے جبکہ اس حوالے سے اپیل کنندہ کو کبھی کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا اسی طرح الیکشن ایکٹ2027کے تحت الیکشن کمیشن کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ نااہلی کے آرڈر جاری کرے اپیل میں استدعا کی گئی ہے اپیل کنندہ کی اپیل منظور کی جائے ریٹرننگ افسر کے31دسمبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست گزار کے کاغزات نامزدگی کو درست قرار دے کر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے یاد رہے کہ سابق چیئر مین کے کاغذات نامزدگی پر3الگ الگ اعتراض کنندگان نے اعتراض دائر کئے گئے تھے حلقہ این اے 89سے امیدوارخرم حمید نے اعتراض لگایا گیا تھا کہ سابق چیئر مین عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے ناطے آئین کے آرٹیکل 62پر پورا نہیں اترتے دوسرے امیدوار خلیل الرحمان خان کی جانب سے اعتراض تھا کہ سابق چیئر مین سزا یافتہ ہونے کے ناطے پاکستان کے لئے سکیورٹی رسک ہیں جبکہ ان کے کاغذات نامزدگی پر موجود دستخط بھی غلط اور فرضی ہیں اسی طرح پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن جوہر آبادکے ڈپٹی ڈائریکٹرنے اعتراض میں کہا تھا کہ درخواست گزار کے ذمہ جولائی 2022 سے اکتوبر2023تک سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 36لاکھ88ہزار 680 روپے واجب الادا ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

0 Comments